17 ستمبر، 2026، 10:36 AM

ایران سفارت کاری کے ذریعے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات حل کرنے کے لیے تیار ہے، صدر پزشکیان

ایران سفارت کاری کے ذریعے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات حل کرنے کے لیے تیار ہے، صدر پزشکیان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ موجود اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اختلافات کو بات چیت اور باہمی احترام کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے عراقی سیاسی جماعت پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ملاقات میں ایران اور عراق کے کردستان ریجن کے عوام کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور سماجی تعلقات پر زور دیا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ دونوں جانب کے تعلقات ہمسائیگی، تاریخی، نسلی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان گہرے اور قدیم روابط موجود ہیں اور انہیں چاہیے کہ انہی مشترکہ اقدار کی بنیاد پر تعاون، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار کریں۔

ایرانی صدر نے خطے میں تقسیم اور تنازع پیدا کرنے کی بیرونی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے کے ممالک کی صلاحیتوں کو کمزور اور ان کے وسائل کا استحصال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تعاون اور مذاکرات میں اضافہ کرکے عدم استحکام اور اختلافات کے اسباب کو کم کرنا ضروری ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ اگر بعض گروہوں کے جائز مطالبات ہیں تو ایران باہمی افہام و تفہیم اور احترام کے دائرے میں مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ تمام فریق اچھے ہمسایہ تعلقات کے اصولوں کی پابندی کریں اور ضرورت سے زیادہ مطالبات اور نامناسب رویے سے گریز کریں۔

انہوں نے مسلمانوں کے درمیان مشترکہ مذہبی اور ثقافتی اقدار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران مسلمانوں کو بھائی سمجھتا ہے اور اس کا یقین ہے کہ علاقائی مسائل تعاون، مذاکرات، انصاف اور عدل کے ذریعے حل کیے جاسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ممالک ایک دوسرے کے ساتھ باہمی احترام اور اخوت کی بنیاد پر برتاؤ کریں تو خطے میں امن، ترقی، پیش رفت، اتحاد اور انسانی اقدار پر مبنی ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔

ایرانی صدر نے ایران اور عراق کے کردستان ریجن کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کو بھی اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت تمام قومیتوں اور مذاہب کی صلاحیتوں کو اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر بروئے کار لانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ملاقات میں بافل طالبانی نے ایران کو عراق کے کردستان ریجن کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات اور مشترکہ تعاون کے فروغ کو اہم قرار دیا۔

طالبانی نے سرحدی سلامتی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تمام کوششیں پہلے سے زیادہ ایران اور کردستان ریجن کے درمیان سرحد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مرکوز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے تحت سرحدی علاقوں میں سرگرم انقلاب مخالف گروہوں کو ہٹانے اور خطے میں سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بافل طالبانی نے مزید کہا کہ وہ ایک اقتصادی وفد کے ہمراہ ایران آئے ہیں تاکہ موجودہ ضروریات کو باہمی تعاون کے ذریعے پورا کرنے اور دونوں جانب تجارت کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔

News ID 1941427

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha